0
My Cart - 0 items
  • No products in the cart.

Chaal Arjun / چھال ارجن

Chaal Arjun / چھال ارجن

:مختلف نام

سنسکرت میں ارجن پرکھش۔ ہندی میں وجے سار /ارجن کو ہا۔ تامل میں مردتنے۔ بنگالی میں ارجن۔ گجراتی میں ساجد ان۔ انگریزی میں اور لاطینی میںکہتے ہیں۔

(arjuna) (TeriminaliaArjuma)

Vijaysar

From 90

Category:

:شناخت

یہ قد آور درخت ہمالیہ کی ترائی، بنگال، پنجاب اور یو پی میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ پتے امرود کے پتوں جیسے قریبا چار پانچ انچ لمبے اور ایک سے دو انچ چوڑے ہوتے ہیں اور دس پتوں سے لے کر پندرہ پتے ایک شاخ میں لگتے ہیں۔پھول زرد اور ننھے ننھے، پھل تین انگل لمبے سبز۔ اس کے پہلے پانچ چھ پھل ابھرے ہوئے اور نمایاں ہوتے ہیں۔ ماہ جولائی میں اس کو پھل کثرت سے لگتے ہیں۔ دہلی اور دیگر کئی شہروں کی سڑکوں پر یہ درخت کثرت سے کھڑے ہوتے ہیں۔

طب آ یورویدکی رُو سے اس کی چھال اور پتے دوا کے طورپر استعمال کیے جاتے ہیں۔

Vijaysar

:مزاج

اس کا ذائقہ کسیلا اور گرم تاثیر رکھتا ہے۔

:فوائد

چھال میں پایا جانے والا گلوکو سائیڈ انگریزی دواڈیجی ٹیلسکی طرح دل کی دھڑکن کو ختم کرتا ہے اور دل کو طاقت دیتا ہے۔ ڈیجی ٹینس زہریلا اثر رکھتا ہے، جبکہ چھال ارجن کا گلو کو سائڈ بے ضرر ہے۔ ان کی چھال کا جوشاندہ جریان خون، دستوں  و پیچش کے علاوہ پھیپھڑوں کے زخم،دِق، تھکن اور پیاس دورکرتا ہے۔

:مقدار خوراک

 جوشاندہ کی شکل میں اس کی مقدار خوراک 25گرام اور سفوف کی مقدار ایک سے تین گرام تک ہے۔

 درخت درجن سے تیار ہونے والے مرکبات درج ذیل ہیں۔ بنائیں اور فائدہ  اٹھائیں۔

: جریان خون

سفوف چھال ارجن چھ  گرام، سفوف صندل سرخ تین  گرام، مصری 9گرام، تینوں کو باہم ملا کر صبح و شام چاولوں کے پانی کے ساتھ استعمال کرنے سے جریان خون میں فائدہ  ہوتا ہے۔

 :دیگر

ارجن کی چھال 18 گرام کو  100 گرام پانی میں رات کو بھگو رکھیں۔ صبح اُبال کر نتھار کر پی لیں۔ خون بند ہو جائے گا۔

 :تقطیر البول

ارجن کی چھال  18 گرام  کا جوشاندہ صبح شام استعمال کرنے سے تقطیرالبول کی شکایت دور  ہو جاتی ہے۔

:خونی دست

ارجن کی چھال 12گرام250 گرام دودھ بھیڑ کے ساتھ پیس کر شہد ملا کر دینے سے خونی دست بند ہو جاتے ہیں۔

:دل کی کمزوری ودھڑکن

چھال درخت ارجن ایک حصہ، پانی دس حصہ، جوشاندہ بنائیں اور آدھا سے ایک اونس پلائیں۔ محرک ومقوی دل ہے۔ اسہال، پیچش اور سنگرہنی میں مفید  ہے۔

:دیگر

چھال ارجن تین گرام چینی ، 25 گرام، ابلتا ہوا گائےکادودھ 480 گرام، تینوں کو ایک جان کر کے استعمال کرائیں۔ دل کی سوجن اور درد دل کے لئے مفید ہے۔ یہ علاج ایک سال تک جاری رکھنا چاہئے۔

:منہ کے کیل اور مہاسے

چھال ارجن کا سفوف 6 گرام، شہر 12 گرام، ملا کر  منہ کے کیلوں  اور مہاسوں پر لگائیں۔ آرام آجائے گا۔ یہ نسخہ پراچین گرنتھ واگ  بھٹ کاہے۔

:زخم

ارجن کی چھال 12 گرام، صاف پانی 60 گرام، جوشاندہ تیار کرکے چھان لیں اور اس سے زخم کو دھوئیں ۔ چند دن کے استعمال سے زخم بھر جاتے ہیں۔

:کمزورئ دِل

درخت ارجن  کی چھال 25 گرام، گائے کا دودھ آدھا کلو، پانی آدھا کلو۔ تینوں کو ملاکر جوش دیں۔ جب پانی اڑ جائے تو دودھ کو چھان کر حسب ذائقہ چینی ملا کر پی لیں۔ اس سے دل کو بہت تقویت ملے گی۔

 :بلغم میں خون

ارجن کی چھال کا سفوف 50 گرام، بانسہ کے پتوں کے رس  میں تر کر کے کھرل کریں اور خشک کریں۔ ایسا سات بار کریں۔ پھر اس سفوف میں چینی ملا کر رکھیں،تین سے چھ  گرام ہمراہ تازہ پانی دیں۔دِق  کہ وہ مریض جنہیں بلغم کے ساتھ خون آتا ہو، کے لئے ازحد مفید  ہے۔

:ہڈی ٹوٹنا

دودھ و گھی کے ساتھ ارجن کی چھال کا سفوف  3 گرام کا استعمال ہڈی ٹوٹنے میں ازحد مفید  ہے۔

:دل کی کمزوری کا علاج

الکوحل 51 فیصد، درخت ارجن کی چھال ایک فیصد، چھال کوموٹاموٹا کوٹ کر الکوحل میں ملا کر بوتل میں ڈال دیں اور بوتل کا منہ ڈاٹ سے بند کر دیں۔ دن میں دو یا تین بار ہلا دیا کریں۔ تین دن میں چھال  کا اثر الکوحل میں آ جائے گا۔ پھر نہایت احتیاط سے الکوحل کو چھان کرشیشی میں ڈال لیں اور شیشی پر مضبوط کارک لگا کر رکھ دیں۔ پانچ سے دس قطرے 25گرام تازہ پانی میں حل کرکے ہر چار گھنٹے بعد دیں۔

The antioxidant capacity of Arjun’s coffee has been found to be very effective and he is responsible for its selection as a medicine. Antioxidants are ingredients that prevent other ingredients from combining with oxygen to form solids or slow them down in a way that is harmful to human health. For example, fat accumulates in the blood vessels, etc. Thus, the use of coffee made from the bark of Arjun prevents fat and protein from clotting in the veins and paves the way for blood to run in the veins.

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Chaal Arjun / چھال ارجن”

Your email address will not be published. Required fields are marked *