0
My Cart - 0 items
  • No products in the cart.

Kachoor / کچور

Kachoor / کچور

(1 customer review)

کچُور

مختلف نام:ہندی کچور،کالی ہلدیـفارسی زرنبادـسنسکرت کچور ـمراٹھی کچور ـتیلیگو کچورالوـبنگالی کوچورـگجراتی کاچورـلاطینی کرکیومازیڈو آوریا(Curcumazedooria) اور انگریزی میں لانگ زیڈ وآری (Long zedoary) کہتے ہیں۔

شناخت:یہ ایک نبات کی جڑ ہے،جو بڑی اور گانٹھ والی ہوتی ہے۔اس پر کئی گانٹھیں ہوتی ہیں۔اس کی بو کافور جیسی خشگوار ہوتی ہے۔اس کے پودے جنگل میں ہوتے ہیں۔اس کے پتے ہلدی کے پتوں کی طرح ہوتے ہیں اور اس کی گانٹھیں بھی ہلدی کی طرح ہوتی ہیں۔ان گانٹھوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے خشک کر لیتے ہیں۔یہی کچور ہے،جو بازار میں ملتی ہے۔

From 40

Clear
Category:

شناخت:یہ ایک نبات کی جڑ ہے،جو بڑی اور گانٹھ والی ہوتی ہے۔اس پر کئی گانٹھیں ہوتی ہیں۔اس کی بو کافور جیسی خشگوار ہوتی ہے۔اس کے پودے جنگل میں ہوتے ہیں۔اس کے پتے ہلدی کے پتوں کی طرح ہوتے ہیں اور اس کی گانٹھیں بھی ہلدی کی طرح ہوتی ہیں۔ان گانٹھوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے خشک کر لیتے ہیں۔یہی کچور ہے،جو بازار میں ملتی ہے۔

اس کی دو قسمیں ہوتی ہیں ۔ایک چھوٹی،اس کو جوش دے کر خشک کر لیتے ہیں۔یہ کچور کہلاتی ہے۔دوسری قسم بڑی ہوتی ہے جسے نر کچور یا کپور کچری کہتے ہیں۔اس کو زمیں سے نکال کر خشک کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر لیتے ہیں۔دونوں کے مزاج دو فائدے لگ بھگ برابر ہیں۔ہندوستان میں ہمالیہ کے ساتھ لگتے علاقوں میں خوب پیدا ہوتی ہے۔بمبئ کے نزدیکی علاقوں میں بھی ملتی ہے۔جنگل میں بھی اس کی پیدائش ہوتی ہے۔ہلدی کے کھیتوں میں بھی ہو جاتی ہے۔

برسات کے شروع میں ہی اس کے پودے اُگنے شروع ہو جاتے ہیں ۔پتے کالے رنگ کے ایک سے دو فٹ تک لمبے ہوتے ہیں۔پتوں کا ساگ بھی بناتے ہیں۔اس کی جڑ کئی گانٹھوں والی ہوتی ہے ۔اس کی جڑوں کو کھود کر اور پانی میں جوش دے کر ٹکڑے ٹکڑے کر کے صاف کر کے کام میں لاتے ہیں۔کچور کو سفوف بناتے وقت اس کی خوشبو الائچی کی طرح ہو جاتی ہے۔اس کے پھول عام طور پر پتوں کے ساتھ ہی لگتے ہیں۔یہ پھول نیلا پن لئے پیلے رنگ کے گچھوں کی  صورت میں ہوتے ہیں۔پھول کے درمیان میں تکونا بیج ہوتا ہے اور بیج سفید و گول ہوتا ہے۔یہ بھی خیال رہے کہ سب ہی کچور کے پودوں میں پھول نہیں آتے ۔اسے پھل یا پھلی نہیں لگتی ہے۔

ڈاکٹر ناد کرنی کی رائے کے مطابق کچور قبض کھولتی ہے،منہ کو صاف کرتی ہے،نزلہ وزکام اور بخار میں کچورکو جوشاندہ میں دار   چینی ،ملیٹھی(چھلی ہوئی) اور سفوف پپلی مناسب مقدار میں ملا کر ان میں شہد ملا کر چٹانے سے بلغم اور زکام  کا بخار دور ہو جاتا ہے۔چوٹ پر کچور کو پھٹکری سفید میں ملا کر لیپ کرتے ہیں۔پیشاب کی نالی کی سوجن اور سیلان میں اس  کی تازہ جڑ کا استعمال کیا جاتا ہے۔

طب یونانی کے مطابق اس کا استعمال  پیٹ کی گیس دور کرتا ہے،مقوی معدہ اور جگر ہے۔بلغم نکالتی ہے۔بھوک بڑھاتی ہے، گلے کی خراش دور کرتی ہے اور اس کے لئے اسے منہ میں رکھ کر چباتے ہیں۔خوشبوداروجالی  ہونے کے باعث چہرہ کی خوبصورتی کے لئے ابٹنوں میں ڈالتے ہیں۔اس کے سفوف میں  پتنگ کا سفوف ملا کر عبیر بناتے ہیں ،جوکہ پانی میں ملا کر ہولی کے دنوں میں ایک دوسرے پر پھینکتےہیں۔

طب آیور وید میں کچور پرانے وقتوں سے استعمال ہو رہا ہے۔آیوروید گرنتھ چرک سنگھتا میں اس کا کئی جگہ ذکر ہے اور ماہرین طب آیوروید نے اسے اسہال ، بخار سنگرہنی، کھانسی ، دمہ دات ،روگ اور پیٹ کے کیڑوں کے لئے مددگار کی صورت میں اسے مفید لکھا ہے۔

مزاج:گرم و خشک درجہ دوم۔

مقدار خوراک:ایک گرام سے 3گرام تک۔

فوائد:کچور جوش پیدا کرتا ہے۔دل ،معدہ،دماغ کے ساتھ ساتھ مردانہ طاقت بھی دیتا ہے۔قے،دست،دل کی دھڑکن،بلغمی کھانسی کے لئے مفید ہے۔منہ میں رکھنے سے دانتوں کا درد دور ہوتا ہے۔زیادہ مقدار میں استعمال سے سر درد پیدا کرتا ہے۔اس کے نقصان کو دور کرنے کے لئے صندل سفید کا استعمال کیا جاتا ہے۔

کچور کے آسان مجربات درج ذیل ہیں:

زکام و بخار: چائے میں کچور،دارچینی،کالی مرچ ڈال کر دن میں دوبار استعمال کرنے سے پسینہ آجاتا ہے۔پھرزکام بخار دور ہو جاتا ہے۔

زبان پر مَیل جمنا:کچور کو چبا کر بھوک دیں پھر نیم گرم پانی کے کلے کر لینے  سے زبان اور گلاب صاف ہو جاتے ہیں۔

قے:بد ہضمی سے قے ہو تو کچور 3گرام پانی 100گرام میں ابالیں۔جب باقی 25 گرام رہے تو اسے چھان لیں اور 5گرام شہد خالص ملا کر 6ـ6گرام ہر آدھے آدھےگھنٹہ بعددیں۔قے رک جائے گی۔

پیشاب کی نالی کی سوجن:3گرام کچور کا سفوف بنا لیں اور 50 گرام پانی میں 6گھنٹے بھگو رکھیں۔پھر جوش دے کر 25گرام  رہنے پر چھان لیں  اور پلائیں۔اس سے پیشاب کی نالی کی سوجن دور ہو کر درد کو آرام آجاتا ہے۔

چوٹ سے سوجن:کچور 3گرام پیس کر پانی سے لیپ بنالیں اور پھٹکری ایک گرام ملا کر چوٹ والی جگہ پر لیپ کر دیں ۔اس سے درد سوجن دور ہو جائے گی۔

بالوں میں جوئیں ہونا:کچور کو پیس کر پانی کے ساتھ بالوں میں لگانے سے بالوں کی جوئیں،لیکھ وغیرہ ختم ہو جاتی ہیں اور بال گرنے بند ہو کر بال بڑھنے شروع ہو جاتے ہیں۔

دانتوں کا درد:کچور کو کوٹ کر سفوف بنا لیں اور ایک دو چٹکی نیم گرم پانی میں گھول کر اس سے کلیاں کریں،دانتوں کا درد دور ہو جائے گا۔

کھانسی:کچور ایک گرام ،دار چینی2/1گرام،ملیٹھی چھلی ہوئی2گرام۔ان سب کو 50گرام پانی میں بھگو دیں۔6گھنٹہ کے بعد جوش دیں،جب 25گرام رہ جائے چھان کر شہد 6گرام ملا کر صبح و شام پلائیں۔زکام، کھانسی و بخار  کے لئے  مفید ہے۔

خصیوں کی سوجن: خصیوں پر ریاح کی وجہ سے سوجن آگئی ہو تو کچور کے سفوف کو پانی کے ساتھ لیپ کرائیں اور لنگوٹ بندھوائیں۔

اُبٹن بہارِ شباب:کچور ،خشخاش،ناگرموتھا،انبہ ہلدی،صندل سرخ سب برابر برابر لے کر سفوف تیار کریں۔اس میں نارنگی کے چھلکے کا سفوف ہموزن ملا لیں،تیار ہے۔بوقت ضرورت جسم پر مالش کر کے غسل کر لیا کریں۔جلد اور بدن نرم ملائم،چمکیلا اور خوبصورت ہو جائے گا۔خوشبو کی لہریں دماغ کو بھی معطر کر دیں گی۔

اُبٹنا شباب افروز:کچور،بابڑنگ،بابچی،خشخاش،انبہ ہلدی،ناگرموتھا،پاپڑی، چھلکا ترنج، صندل سفید، تمام اشیاء ہموزن سفوف بنالیں۔اس میں حسب پسند خوشبویات ملا لیں۔بوقت ضرورت جسم پر مالش کریں۔شباب کی تشہیر کرےگا۔

It is a turmeric-like dissolve. Zarnabad is the root of the plant that is similar to the turmeric. It has two types. One of the sharp odor. Which is hard. Boil it and dry it. If you keep it, it is called Kachur. The other type of Kalan is thick and long. After taking it out of the ground, it is boiled and dryed and used. It is called Nirkchor and Kapoor Kachri. The functions of both. Almost the same.

1 review for Kachoor / کچور

  1. Muhammad Asadullah

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ! مہربانی فرما کر دیسی ادویات کے فوائد کے ساتھ ساتھ ان کے سائڈ ایفیکٹس اور نقصانات سے بھی آگاہ فرمایا کیجیے۔ شکریہ جزاک اللہ خیرا کثیرا کثیرا کثیرا

Add a review

Your email address will not be published.

Designed by WZ