مشہور نام اٹنگن ۔ فارسی تخم انجرہ۔ عربی بزر القریض۔ گجراتی اٹنگن۔ مرہٹی کرڈو۔ لاطینی بلی فیری سیڈزلس پیس (blepharis edulis) اور انگریزی میں بلی بھر سیڈز(Blibhar Seeds)کہتے ہیں۔
شناخت:
اٹنگن کے پودے نمناک زمین میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہ پودے چھتے دار ہوتے ہیں۔ یہ چار چار آپس میں جڑے ہوئے اور چاروں طرف پھیلے ہوتے ہیں اور اس کے (blepharis edulis) بیچ السی کے بیجوں کی شکل کے ہوتے ہیں۔ رنگ سیاہی مائل، ذائقہ بدمزہ اور پھیکا ہوتا ہے۔ دوا کی صورت میں اس کے تخم ہی استعمال کیے جاتے ہیں۔
اردو میں ارنڈ، اینڈی، بیدانجیر۔ ہندی اَرنڈ۔ گجراتی اَرنڈ۔ بنگالی بھیرانڈ۔ مرہٹی اَرنڈ۔ تیلگوآموڈلِلی،آموڑا۔ انگریزی ، کیسٹر آئل پلانٹ۔
Ricinus, Castor Seedبیدانجیر کے پتے چوڑے اور ہاتھ کے پنجے کی طرح ہوتے ہیں۔ یہ پودا دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک سفید، دوسرا لال۔ اس کا تیل ادویات میں استعمال ہوتا ہے۔ مغز سفید تیل کی چکنائی سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس پر گچھوں کی طرح لال پھول لگتے ہیں۔ اس کا پھل کانٹے دار ہوتا ہے۔ دوسرے درجہ میں گرم خشک ہے۔ کئی لوگ پہلے درجہ میں گرم خشک کہتے ہیں۔ارنڈ کا پودا بھارت و پاکستان میں ہر جگہ پایا جاتا ہے مگر پنجاب، ہریانہ، بنگال، مدارس اور بمبئی میں زیادہ تر پایا جاتا ہے۔
بیدانجیر کے بیجوں میں سے تیل 50 فیصدی تک نکالا جاتا ہے جو بیجوں کو کولہویا مشین میں دبا کر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اسے صاف کرکے کیسٹرآئل کے نام سے فروخت کیا جاتا ہے اور برٹش فارما کو پیا،آیوردید اور یونانی طریقہ علاج میں زیادہ تراستعمال ہوتا ہے۔
مشہور نام چرونجی – ہندی چرونجی -سنسکرت پریال -بنگالی چرونجی -مرہٹی چارولی -گجراتی چارول -فارسی نقل خواجہ- عربی حب السمنہ – انگریزی میں (cuddapah almond) کہتے ہیں.
یہ ایک پہاڑی پھل ہے ۔اس کے پتے چھوٹے چھوٹے نوک دار اور کھردرے ہوتے ہیں. اور بیری کے پتوں کی طرح ہوتے ہیں. اس کے پھل میں سے جو گری نکلتی ہے اسے چرونجی کہتے ہیں.
گرم و خشک ۔
WhatsApp us
