0
My Cart - 0 items
  • No products in the cart.

Andar jo Tulkh/ اندر جو تلخ

-14%

Andar jo Tulkh/ اندر جو تلخ

: مختلف نام

مشہور نام اندر جَو (tellicherry bark) ۔ ہندی اندر جوَ۔ بنگالی اندر جَو۔ گجراتی  پندھرا،کورا۔ فارسی زبان کنجشک۔ عربی لسان العصافیر۔ سنسکرت کنج پھل۔ پنجابی کوار یاکورا۔ تامل شاپود پیالا رستی۔ دہلوی کڑاناموں  سے موسوم ہے۔ انگریزی میں ہولا رینا اینٹی ڈائسینٹر یکا(ٰHolarrhena Anti Dysenterica)اور کُرچی(Kurchi)کونیسی(Conessi)ٹیلک ہیری ایر(Tallic herr Earr)ناموں سے مشہور ہے۔ اس کے بے شمار فوائد (holarrhena benefits) ہیں.

:مقام پیدائش

اندر جو(کُڑا) کا درخت ہندوستان کے گرم و خشک پہاڑی علاقوں میں تین  سے چار  ہزار فٹ کی بلندی پر ملتا ہے۔ یوپی میں ڈیرہ دون اورگڑھوال  کے پہاڑی علاقوں میں ملتا ہے۔ علاوہ ازیں ٹراونکور کے  جنگلوں میں بھی پیدا ہوتا ہے۔ کشمیر و کانگڑہ، بنگال، اڑیسہ اور آسام کے جنگلوں میں بھی عام ملتا ہے۔ کسان اسے مویشیوں کے لئے چارہ کی صورت میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس کی لکڑی بیل بوٹے اور فرنیچر بنانے کے کام آتی ہے۔

From 140 From 120

Clear
Category:

:شناخت

اندر جَو درخت یعنی کُڑاکے بیج ہوتے ہیں۔ اندر جوکڑوے اور میٹھے دو قسم کے ہوتے ہیں اور پنساریوں سے عام طور پر مل جاتے ہیں۔ اس درخت میں پنسل جتنی موٹی اور گول، بالشت بھر لمبی پھلیاں لگتی ہیں۔ ان میں بیج ہوتے ہیں۔ جو جَو کی شکل کے ہوتے ہیں۔ اس لئے اسے اندر جو کہتے ہیں۔ پتہ یا پھل توڑنے پر دودھ نکلتا ہے۔ اس درخت کی چھال کو کڑا چھال  اور انگریزی میں کُرچی بارک کہتے ہیں۔ ذائقہ کے لحاظ سے کڑوا اور میٹھے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ درخت  کالا کُڑاکے بیج اندرجوتلخ  (کڑوے) اور درخت سفید کُڑا کے بیج اندر جو شیریں( میٹھے) کہلاتے ہیں۔

طب آیورید کی کتاب  ’’چرک سنگھنا‘‘اور ’’سشرت منگھنا‘‘میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ طب یونانی کی قدیم مستند کتب میں بھی کڑا  چھال اور بیج کُڑا( اندرجو) کا ذکر ملتا ہے۔ طب  ہومیوپیتھی کے میٹریا میڈیکا میں بھی  یہ شامل ہے اور طب ایلوپیتھی کے انڈین نیشنل فارماکوپیا میں بھی یہ داخل ہے۔

 اندر جو کے درخت کی ہر ٹہنی پر کم و بیش 15۔ 20 پتے آتے ہیں جو چھ سے آٹھ انچ لمبے اورلگ بھگ دو سے چار انچ تک چوڑے ہوتے ہیں۔ یہ دو دو قطاروں میں آمنے سامنے نکلے ہوتے ہیں۔ یہ نوکدار امرود کے پتوں کی طرح ہوتے ہیں۔ ماہ جنوری میں اکثر سب پتے جھڑ جاتے ہیں اور مارچ، اپریل میں نئے پتے نکل آتے ہیں۔ اپریل، مئی میں  سفید رنگ کے پھول گچھوں کی صورت میں آتے ہیں جو چنبیلی کے پھولوں کی شکل میں ہوتے ہیں۔ دسمبر سے جنوری تکاس کے درخت پر سہانجنہ کے درخت کی طرح پھلیاں لگتی ہیں اور یہ ان پھلیوں سے لد جاتے ہیں۔ یہ موسم سرما میں پک جاتی ہیں اور مارچ، اپریل میں تڑخ  جاتی ہیں اور ان کے اندر سے جو بیج نکلتے ہیں یہ جو کی شکل کے ہوتے ہیں اور یہی بیچ اندر جو کے نام سے مشہور ہیں۔

طب آیورید میں کڑا تلخ کو کڑا شیریں  کی نسبت زیادہ مفید و مؤثر قرار دیا گیا ہے۔ اس لئے تمام آیوریدک مرکبات میں صرف کڑا تلخ کے ہی  اجزاء استعمال کرائے جاتے ہیں۔

:مزاج

گرم و خشک درجہ دوم۔

:مقدار

سفوف اند جو چار رتی سے ایک گرام،کڑا چھال( اندرجو کی چھال) کا جوشاندہ 10سے20  گرام تک۔

:فوائد

اندرجو  کی جڑ پیٹ کے کیڑوں کے لئے مفید ہے۔ اس کی چھال(کڑاچھال) سنگرہنی اور پیچش کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ اندرجوتلخ کا سفوف بھی ایک دو رتی  بچوں کو کھلانے سے دستوں کو آرام آجاتا ہے۔

آیوروید طب کے مطابق اندرجوچرپرہ، تیز اور گرم تاثیر والا ہے۔ تینوں خلطوں کو  دور کرتا ہے۔مشتہی ہے۔بواسیر خونی، عام دست، درد پیٹ اور پیٹ کے کیڑوں کے لئے مفید ہے۔

 یونانی طب کے مطابق اندر جو  بلغم اور ریاحی امراض کو دور کرتا ہے۔ پھلی کو پیس کر زہریلے  ڈنک پر لگانے سے سوجناتر جاتی ہے۔ تازہ کڑا چھال  کے رس کی  دس سے پندرہ بوندیں دینے سے عام دست اور سنگرہنی کو آرام آجاتا ہے۔

 بواسیر خونی و زیادتی ایام کے لئے بھی مفید ہے۔ اس کے پیڑ کے پتوں کا رس بھی ان امراض میں مفید ہے۔ اس کا سفوف ہر روز دوگرام لے کر پانی کے ساتھ کھانے سے دو تین ہفتہ میں خونی بواسیر کو آرام آجاتا ہے۔

Form

Whole, Powder

Weight

50gm, 100gm, 250gm, 500gm

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Andar jo Tulkh/ اندر جو تلخ”

Your email address will not be published.

Designed by WZ