0
My Cart - 0 items
  • No products in the cart.

Soye/ سوئے

-25%

Soye/ سوئے

مختلف نام:عام نام سویا۔ ہندی سویا- بنگالی شلنا،شونوا،سووا- گجراتی سووا-کشمیری سوئی- اردو سویا- عربی شبت- سنسکرت شت پشیا- لاطینی(Anthi Fructus) اور انگریزی میں(Fenel Seed) کہتے ہیں۔

نوٹ:بہت سے یونانی اطباء انیسوں اور سوئےکو ایک ہی تصور کرتے تھے۔بعد میں ان میں تفریق کی گئی ۔

شناخت:اس کا پوداسونف کے پودے کے پودے کی طرح چھتر دار مخصوص خوشبو والا اور لگ بھگ ایک گز اونچا ہوتا ہے۔ پتے سونف (بادیاں)کے مشابہہ اور پھول گچھے دار زردار سفید ہوتے ہیں۔ ان پھولوں میں تخم ہوتے ہیں جو تخم شبت کے نام سے موسوم کئے جاتے ہیں اورزیادہ تر  تخموں کا ہی استعمال کیا جاتا ہے۔

From 60

Category:

مقام پیدائش: ہندوستان، وسطی و جنوبی یورپ۔

مزاج: گرم خشک درجہ دوم، بعض کے نزدیک گرم خشک درجہ اوّل۔

مقدار خوراک:10سے15گرام تک۔

فوائد: اس کے پتے کا سرریاح،مفتت سدد،ہا ضم،دافع پیچش،سردی کے دردوں کو مفید، خشک کھانسی دور کرنے نیز گردہ و مثانہ کی پتھری کو توڑنے اور آنتوں کی ریاح کو خارج کرنے کے لئے ہیں۔مسکن درد  اور محلل اورام ہیں۔ یونانی اطباء سونے(نیند) کے لئے اس کی ٹوپی بناکر مریض کے سر پر رکھتے تھے۔ اگر سوئے کے پتوں کو روغن کنجد میں بھجیا سی بناکر پھوڑوں کو باندھیں تو ان کے دردوں  کو کم کرتا،پکاتا  اور مادے کو خارج کرتا ہے۔ یہ مدربول اور مدر ایام بھی ہے۔قبض کو دور کرتا ہے۔ اگر گوشت کے ساتھ ملا کر پکایا جائے تو اس کو جلدی ہضم کر دیتا ہے۔ ذیابیطس شکری کے لئے مفید ہے۔

ایک مریض آٹھ نو ماہ سے ذیابیطس شکری میں مبتلا تھا۔ اس کے پاؤں کی انگلی پر زخم ہو گیا تھا۔ ڈاکٹروں نے آپریشن کرکے انگلی کاٹ دی، تین ماہ سے زیادہ عرصہ تک پاؤں کے زخم کا ڈاکٹری علاج ہوتا رہا، کوئی فائدہ نہ ہوا اور زخم مندمل نہ ہو سکا۔ اسی دوران میں ایک بابا سنیاسی تشریف لائے۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ تازہ سوئے کا رس نکال کر 50 گرام صبح اور 50 گرام شام استعمال کریں۔ آپ کی شکر بالکل ٹھیک ہوجائے گی۔ اس نے ایک ہفتہ استعمال کی مدت بتائی تھی، مریض نے یہ رس گیارہ دن پیا اور آپ کو حیرت ہوگی کہ تیسرے ہی دن شکر پیشاب میں بہت کم ہو گئی اور اب وہ بالکل ٹھیک ہے۔جراح کےعلاج اور سوئے کے استعمال سے زخم مندمل ہو چکا ہے۔ مریض نے دو تین بار چینی بھی کھائی ہے،چاول بھی استعمال کئے ہیں۔ مگر شکر کا تناسب” طبعی حالت میں رہا ہے”۔سوئی میں تریاقیت  بھی پائی جاتی ہیں۔ضعف معدہ، ہچکی،جگرو طحال کو  مفید ہے۔ قولنج کا مانع اور فساد غذا کا دافع ہے۔ اگر کان میں ورم اور درد ہو تو اس کے پانی کو تیل میں خشک کرکے وہ تیل کان میں ڈالا جائے تو بہت مفید ہے۔

سوئے کے بیج (تخم شبت)

شناخت:یہ چھوٹے چھوٹے چپٹے بیضوی6/1انچ لمبے اور 8/1سے12/1انچ چوڑے  بیج ہوتے ہیں۔ ان کا کنارہ جھلی کی مانند پتلا اور بیج دو حصوں پر منقسم ہوتا ہے اور ہر حصہ پر خطوط ہوتے ہیں۔ رنگ بھورا، بواور ذائقہ تیز لیکن خوشگوار ہوتا ہے۔ان کی قوت دو برس تک قائم رہتی ہے۔

مزاج:گرم و خشک دردجہ سوم۔

فوائد:محلل ریاح، مدر بول اور ایام ہے۔ بطور جوشاندہ قے آور،شہد کے ہمراہ بواسیر اور مقعد کے امراض میں مفید ہچکی اگر امتلاکی وجہ سے ہو تو اس میں فائدہ کرتا ہے۔ قلت لبن اور مثانہ،خصیوں اور امراض رحم میں مفید ہے۔عسر بول کو دور کرتا ہے۔ زخم کو خشک کرتا ہے۔ اگر اس کے جوشاندہ سے بھپارہ لیا جائے تو زکام کے لئے مفید ہے۔ اگر ان کو پیس کا روغن کنجد کے ہمراہ تیل بنا کر استعمال کریں تو وجع المفاصل کو فائدہ دیتا ہے۔ کھانا کھانے کے بعد اگر اس کا استعمال کیا جائے تو کھانے کو ہضم کرتا ہے  اور ریاح پیدا ہونے سے بچاتا ہے۔ اس کے بیجوں کو باریک پیس کر ہم وزن کھانڈ  ملا کر دودھ کے  ہمراہ بچے والی عورت کو دیا جائے گا تو اس کا  دودھ بڑھ جائے گا۔ زچگی کے ایام میں جوشاندہ یا خسیاندہ دیا جائے تو دل کے لئے مفید ہے۔ اگر کھانڈ ملا ہوا سفوف دودھ کی لسی کے ہمراہ پھانکا جائے تو پیشاب آور ہے۔ اگر ارنڈی کے تیل میں جلا کر زخموں پر چھڑکا جائے تو پرانے اور گندے زخم جلدی مندمل ہو جاتے ہیں۔ اس کا عرق بچوں کے نفح کے لئے بہت مفید ہے۔

مضر:گرم مزاج والوں کو اگر کافی دنوں تک اس کا استعمال کرایا جائے توضعف دماغ اور ضعف بصر ہو جاتا ہے۔ یہ گردے اور مثانے کو کمزور اور منی کو خشک کرتا ہے۔

مصلح:لیموں اور ترشیاں سرد مزاج والوں کے لئے شہد،لونگ اوردار چینی وغیرہ۔

Form

Whole, Powder

Weight

50gm, 100gm, 250gm, 500gm

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Soye/ سوئے”

Your email address will not be published. Required fields are marked *