0
My Cart - 0 items
  • No products in the cart.

Sumblo Booti / سُمبلُو بُوٹی

-18%

Sumblo Booti / سُمبلُو بُوٹی

From 90

Category:

سُمبلُو بُوٹی سے مہلک امراض کا علاج

سُملو کا لاطینی نام بربیرس اریسٹاٹا ہے اور یہ نباتات کے خاندان زرشکیہ سے تعلق رکھتی ہے۔ یورپ کی عام زرشک کا لاطینی نام بربیرس دیگرس ہے۔ پاکستان اور انڈیا میں اسی کو سُمبل، سُمبلو یا سِملو کہتے ہیں ۔ ہندی میں اس کو دار ہلد بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پودا عام کانٹے دار جھاڑی ہے، جس کی جڑ زرد رنگ کی ہوتی ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقوں مانسہرہ، بالاکوٹ، کشمیر اور شمالی وزیرستان میں بھی پائی جاتی ہے۔

بلوچستان کے علاقوں زیارت ، باباخرواری، دوزخ تنگی، لورالائی، درگئی، قلعہ سیف اللہ اورسنجاوی کے اطراف میں بھی پائی جاتی ہے۔ وہاں کے لوگ اسے زرل کہتے ہیں۔ بعض جگہ اسے کورئے یا زیڑلرگے بھی کہا جاتا ہے۔ (پاک و ہند میں سُمبل نام کا ایک بہت بڑا درخت بھی پایا جاتا ہے جس پر سرخ رنگ کے بڑے بڑے پھول لگتے ہیں اور پھر روئی یا اُون سے مماثل بہت نرم قسم کی ریشے والی روئی لگتی ہے جو کہ نرم تکیے اور غلاف میں بھری جاتی ہے۔ اس درخت کا سمبل والی جھاڑی نما پودے سے کوئی تعلق
نہیں۔)

سمبل، سمبلو، یا سملو ایک خود رو جھاڑی ہے۔ اس کے پرانے پودوں کا قد سات آٹھ فٹ تک ہوتا ہے۔ شاخیں اطراف میں پھیلی اور کانٹوں سے بھری ہوتی ہیں۔ ہر کانٹا سہ شاخہ ہوتا ہے۔ پرانے پودوں کے تنے کا قطر تین چار انچ ہوتا ہے۔ جڑیں گہری بلکہ آٹھ دس فٹ زمین میں ہوتی ہیں۔ یہی جڑ کارآمد ہے۔ اسے کاٹ کر اس پر سے چھلکا اتارکر سائے میں خشک کر لیتے ہیں۔ یہ چھلکا زرد رنگ کا اورذائقے میں کڑوا ہوتا ہے۔ سُملوکے زرد پھول گچھوں کی شکل میں لہلہاتے ہیں۔ پتے لمبوترے اور نوکیلے ہوتے ہیں۔

پھول چند دن بعد جھڑ جاتے ہیں۔ ان کی جگہ چھوٹے چھوٹے سبز دانے نکلتے ہیں جو پکنے پر سیاہ ہو جاتے ہیں۔ بچے اور بڑےانہیں شوق سے کھاتے ہیں۔اس کےپھول اور پتے بھی کھائے جاتے ہیں جن کا ذائقہ ترش ہوتا ہے۔یہ منہ اور گلے کے امراض کا علاج ہے۔ اس کی جڑ خزاں کے آخر میں نکالی جاتی ہے تاہم ضرورت پڑنے پر کسی وقت بھی تازہ جڑ کا چھلکا اتار کر استعمال کر سکتے ہیں۔ سمبل کی جڑ کے سفوف سے سرطان کے مریضوں کا شفا بخش علاج ہوسکتا ہے۔

Form

Whole, Powder

Weight

50gm, 100gm, 250gm, 500gm

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Sumblo Booti / سُمبلُو بُوٹی”

Your email address will not be published. Required fields are marked *